ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کورٹ کے انکار کے بعد بھی مظفر پور شیلٹر ہوم ریپ کیس کی تحقیقات کر رہے سی بی آئی حکام کا تبادلہ

کورٹ کے انکار کے بعد بھی مظفر پور شیلٹر ہوم ریپ کیس کی تحقیقات کر رہے سی بی آئی حکام کا تبادلہ

Sat, 04 Jan 2020 11:30:49    S.O. News Service

پٹنہ،4/جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی) بہار کے مشہور مظفر پور شیلٹر ہوم ریپ کیس میں تحقیقات کر رہے سی بی آئی حکام کو منتقل کر دیا گیا ہے۔حیرانی اس بات کی ہے کہ کورٹ نے حکم دیا تھا کورٹ نے پہلے بھی ان افسران کے ٹرانسفر کرنے پر مرکزی حکومت کو پھٹکار لگائی تھی لیکن پھر بھی کیوں یہ ٹرانسفر کیا گیا ہے، سمجھ سے باہر ہے۔وہیں اس پر آر جے ڈی نے سی ایم نتیش کمار پر نشانہ لگاتے ہوئے پوچھا ہے کہ سی ایم نتیش کسے بچانا چاہ رہے ہیں؟ آر جے ڈی کی جانب سے کئے گئے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ مظفر پور شیلٹر ہوم کے ساتھ ساتھ بہاربھر کے شیلٹر ہوم میں بچیوں کو نوچ نوچ کرکھانے والے گدھ آج خود کو کبوتر بتا رہے ہیں! جے ڈی یو کے بدعنوان کبوتر اور بی جے پی کے فسادی کبوتری کے انتخابی گٹرگوں سے بچیوں کے کراہ کی آواز نہیں دبے گی ۔آپ کو بتا دیں کہ مرکزی تفتیشی بیورو(سی بی آئی) نے سپریم کورٹ میں سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ مظفر پور شیلٹر ہوم تشدد کیس کے اہم ملزم برجیش ٹھاکر اور اس کے ساتھیوں نے 11 لڑکیوں کامبینہ طور پر قتل کیا تھا اور ایک شمشان گھاٹ سے ’ہڈیوں کی پوٹلی‘ برآمد ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر اپنے حلف نامے میں سی بی آئی نے کہا کہ تفتیش کے دوران درج متاثرین کے بیانات میں 11 لڑکیوں کے نام سامنے آئے ہیں جن میں ٹھاکر اور ان کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر قتل کیا تھا۔سی بی آئی نے کہا کہ ایک ملزم کی نشاندہی پر ایک شمشان گھاٹ کے ایک خاص مقام کی کھدائی کی گئی جہاں سے ہڈیوں کی پوٹلی برآمد ہوئی ہے۔غور طلب ہے کہ بہار کے مظفر پور میں ایک این جی او کی طرف سے شیلٹر ہوم میں بہت سے لڑکیوں کے ساتھ مبینہ طور پر عصمت دری اور جنسی تشدد کیا گیا تھا اور ٹاٹا سماجی سائنس انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے بعد یہ مسئلہ سامنے آیاتھا۔


Share: